World
برطانوی پابندیاں اسرائیلی بستیاں: فرانسیسکا البانیز کا اہم بیان
اقوام متحدہ کی ماہر فرانسیسکا البانیز نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں پر عائد پابندیوں کو ایک اہم اور زلزلہ خیز تبدیلی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک برطانوی خاموشی اور مبینہ ملوث رہنے کے بعد یہ قدم ایک بڑی پیش رفت ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ماہر فرانسیسکا البانیز نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کو ایک 'زلزلہ خیز تبدیلی' سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا یہ بیان اس تناظر میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور اس میں ملوث افراد کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ البانیز کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طویل عرصے سے بین الاقوامی سطح پر یہ تنقید کی جا رہی تھی کہ مغربی ممالک اس تنازع میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور مبینہ طور پر اس صورتحال میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
فرانسیسکا البانیز نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ برسوں کی مبینہ چشم پوشی اور پالیسیوں کے بعد برطانیہ کا یہ قدم خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں ایک گہرا اثر چھوڑ سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی اسرائیلی بستیوں کی غیر قانونی حیثیت پر آوازیں بلند کی جاتی رہی ہیں، تاہم بڑے ممالک کی طرف سے عملی پابندیوں کا نفاذ نسبتاً نایاب رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ اقدام دیگر مغربی ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے جو مستقبل میں اس قسم کے مزید اقدامات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، اس فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قدم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ تنظیموں کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جب تک غیر قانونی بستیوں کے ذمہ داروں اور آباد کاروں پر معاشی و سفارتی دباؤ نہیں ڈالا جاتا، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اور دو ریاستی حل کا حصول ممکن نہیں۔ برطانوی حکومت کے اس فیصلے کو اسی تناظر میں ایک عملی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دیگر یورپی اور مغربی ممالک بھی اس برطانوی پالیسی کی پیروی کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر مزید ممالک اس قسم کی پابندیوں کا اعلان کرتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا، اقوام متحدہ کے مختلف ادارے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے اسے عالمی قانون کی بالادستی کی طرف ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جس سے خطے کے مظلوم عوام کی آواز کو عالمی سطح پر مزید تقویت مل رہی ہے۔