World
اسرائیلی جامعات میں فلسطینی طلباء کے خلاف امتیازی سلوک کی رپورٹ
ایک نئی قانونی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جامعات فلسطینی طلباء کو نشانہ بنانے کے لیے دوہرے معیار کا نظم و ضبط کا نظام استعمال کر رہی ہیں۔ یہ رپورٹ تعلیمی اداروں میں منظم امتیاز کی سنگین تصویر کشی کرتی ہے۔
ایک تازہ قانونی رپورٹ نے اسرائیلی تعلیمی اداروں کے اندر فلسطینی طلباء کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جامعات ایک ایسے دوہرے اور منقسم نظم و ضبط کے نظام پر عمل پیرا ہیں جس کا بنیادی ہدف فلسطینی طلباء کو دبانا اور انہیں تعلیمی میدان میں دیوار سے لگانا ہے۔ اس قانونی جائزے نے تعلیمی شعبے میں مبینہ نظامی نسل پرستی کی سنگین تہوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی یونیورسٹیوں میں یہ دوہرا نظام برسوں سے خاموشی کے ساتھ نافذ ہے، جس کے تحت فلسطینی نژاد طلباء اور عملے کو شدید جابرانہ ضابطوں اور جانبداری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسرائیلی طلباء کے مقابلے میں فلسطینی طلباء کی سرگرمیوں کو سختی سے کچلا جاتا ہے، اور معمولی بنیادوں پر بھی ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر بھی فلسطینی طلباء کو شدید امتیازی پالیسیوں کا سامنا ہے، جو کہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس رپورٹ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ جامعات جیسے علمی مراکز میں اس قسم کی تعصب پر مبنی پالیسیاں نہ صرف تعلیم کے بنیادی اصولوں کی نفی کرتی ہیں بلکہ یہ معاشرتی تفریق کو مزید گہرا کرنے کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ متوقع طور پر اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور انسانی حقوق کے اداروں میں اسرائیل کے تعلیمی نظام کے خلاف آوازیں مزید بلند ہوں گی اور ان پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔