LIVE
Loading Breaking News...

ہنگری کا دس روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کا فیصلہ، ماسکو کی سخت جوابی دھمکی

News Image
ہنگری کی حکومت نے دس روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد ماسکو نے اس اقدام پر سخت اور تکلیف دہ جوابی کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔ اس کشیدگی سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
ہنگری کی حکومت نے ایک اہم فیصلے کے تحت دس روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد روس اور ہنگری کے دوطرفہ تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے، اور ماسکو نے اس اقدام کو غیر دوستانہ قرار دیتے ہوئے سخت اور تکلیف دہ ردعمل ظاہر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ہنگری کے اس قدم کا مناسب اور مؤثر جواب دیں گے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں یورپی ممالک اور روس کے درمیان سفارتی محاذ آرائی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ہنگری کا شمار یورپی یونین کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو روایتی طور پر روس کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات کے حامی رہے ہیں، تاہم تازہ ترین پیش رفت نے اس توازن کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سفارت کاروں کی ملک بدری کے اس سلسلے سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماسکو میں حکام نے واضح کیا ہے کہ ہنگری کا یہ اقدام قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے طویل المدتی منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ روس نے روایتی طور پر ایسے مواقع پر جوابی اقدامات کیے ہیں، جن میں متعلقہ ملک کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنا شامل ہوتا ہے۔ اس تازہ ترین تنازع کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ ہنگری کی حکومت اس ممکنہ روسی ردعمل سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور آیا یورپی یونین اس صورتحال میں کیا موقف اپناتی ہے۔