World
بی اے پی ایس ہندو گروپ کیا ہے اور آئیفل ٹاور کیوں بند ہوا؟
فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں قائم دنیا کے مشہور ترین سیاحتی مقام آئیفل ٹاور کو حال ہی میں اس وقت عارضی طور پر بند کرنا پڑا جب کارکنوں نے ایک ہندو مذہبی گروپ کے دورے کے دوران خواتین کو مبینہ طور پر نظر انداز کیے جانے پر احتجاج کیا۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس گروپ اور اس کے پس منظر کے بارے میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام آئیفل ٹاور کو اس وقت اچانک بند کرنا پڑ گیا جب وہاں کام کرنے والے عملے اور ملازمین نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس احتجاج کی بنیادی وجہ ایک ہندو مذہبی تنظیم بی اے پی ایس کا دورہ تھا، جس کے دوران مبینہ طور پر خواتین ملازمین اور افراد کو نظر انداز کیا گیا اور انہیں ان کے فرائض سے الگ رکھا گیا۔ ملازمین کا موقف تھا کہ کام کی جگہ پر کسی بھی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ٹاور کی انتظامیہ کو حفاظتی اور انتظامی وجوهات کی بنا پر اس اہم تاریخی مقام کو عارضی طور پر بند کرنے کا کٹھن فیصلہ کرنا پڑا۔
بی اے پی ایس (BAPS)، جس کا پورا نام بوچا سنخواست پرسنگھ ہے، ایک عالمی ہندو تنظیم ہے جو دنیا بھر میں اپنے مندروں، سماجی فلاحی کاموں اور ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ اس تنظیم کے پیروکار دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور یہ بین المذاہب ہم آہنگی اور روایتی ہندو اقدار کے فروغ کا دعویٰ کرتی ہے۔ تاہم، پیرس کے آئیفل ٹاور کے حالیہ واقعے نے اس تنظیم کو عالمی میڈیا کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے طریقۂ کار اور عملے کے ساتھ برتاؤ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی مزدور یونینز اور مساوات کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی آواز اٹھائی اور مطالبات پیش کیے کہ سیاحتی اور عوامی مقامات پر کسی بھی مذہبی یا نجی گروپ کی خاطرداری کے دوران بنیادی انسانی حقوق اور مساوات کے اصولوں کو پامال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ حکومت اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے اور اس طرح کے معاملات میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جانی چاہیے۔
ابتدائی بندش کے بعد متعلقہ حکام اور انتظامیہ نے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے مزدوروں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تاکہ آئندہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ اگرچہ آئیفل ٹاور کو بعد میں دوبارہ کھول دیا گیا، لیکن اس واقعے نے یہ بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے کہ عوامی مقامات پر عالمی سطح پر آنے والے مختلف ثقافتی اور مذہبی گروہوں کی میزبانی کے دوران مقامی قوانین اور مساوات کے اصولوں کا کس طرح پاس رکھا جانا چاہیے۔