World
یمن میں جاری جنگ اور بچوں کی جبری بھرتی کی نئی لہر
یمنی حکومت اور حوثی فورسز کے درمیان لڑائی کے نئے دور نے ملک میں بچوں کی جبری بھرتی کی لہر کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے بین الاقوامی اداروں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی کے ایک بار پھر شدت اختیار کرنے کے بعد انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تنازعے کے اس تازہ ترین دور نے ملک کے پہلے سے تباہ حال نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے، جس کے اثرات براہ راست معصوم شہریوں اور بالخصوص کم عمر بچوں پر پڑ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنگ کی اس نئی لہر کے دوران کم عمر بچوں کی صفوں میں جبری بھرتیوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق دونوں فریقین کی جانب سے جاری اس رسہ کشی میں کمسن بچوں کو محاذ جنگ پر دھکیلا جا رہا ہے، جنہیں بنیادی تربیت کے بعد خطرناک عسکری کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور تعلیمی اداروں کی بندش نے خاندانوں کو انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دھکیل دیا ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر مختلف عسکری گروہ کمزور پس منظر رکھنے والے بچوں کو آسانی سے اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یمن کی آنے والی نسلیں اس تباہ کن جنگ کی براہ راست بھینٹ چڑھ جائیں گی۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فریقین پر زور دے رہی ہیں کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام تنازعات میں بچوں کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے اور جنگی مقاصد کے لیے نابالغوں کا استعمال فوری طور پر بند کیا جائے۔ تاہم، زمینی حقائق کے مطابق فریقین کے درمیان جاری تناؤ اور سیاسی ڈیڈلاک کی وجہ سے فی الحال اس نوعیت کے انسانی بحران پر قابو پانا ایک انتہائی مشکل چیلنج بنا ہوا ہے۔