World
سعودی عرب اور آئی اے ای اے کا جوہری معاہدہ، اضافی اختیارات دینے کی تیاری
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ایجنسی کو اپنے جوہری پروگرام پر زیادہ اختیارات دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس اقدام سے ویانا میں جوہری معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے جبکہ امریکی کانگریس میں اس پر نظرثانی کا عمل جاری ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب ایجنسی کو اپنے جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے مزید اختیارات دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں فریقین کے درمیان جوہری امور پر تعاون کو مزید موثر بنانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس فیصلے کو عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے خطے میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے نے ویانا میں ہونے والی ابتدائی رکاوٹوں کو عبور کر لیا ہے اور اسے تکنیکی اور قانونی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایجنسی سعودی عرب کے ساتھ مل کر پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ پر کام کر رہی ہے اور اس نئے سمجھوتے کے تحت معائنہ کاروں کو مزید وسعت دی جائے گی۔ دوسری جانب، امریکہ میں اس معاملے پر ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے جہاں امریکی کانگریس میں اس جوہری معاہدے پر باقاعدہ جائزہ اور نظرثانی کا عمل تاحال جاری ہے۔ قانون ساز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس معاہدے کے خطے کے سٹریٹجک توازن اور عالمی عدم پھیلائو کے معاہدوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف سعودی عرب کے توانائی کے شعبے کو تقویت ملے گی بلکہ عالمی منڈی بالخصوص خام تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سکیورٹی پر بھی اس کے گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی توانائی مارکیٹ میں خام تیل کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھی اس جوہری پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ مستقبل کے معاشی اور سفارتی تعلقات کی نئی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔