LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی شہر موسمیاتی خطرات سے مقابلے میں کمزور ترین قرار

News Image
ایک نئی عالمی تحقیق کے مطابق پاکستانی شہر موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے حوالے سے دنیا کے کم ترین لچکدار شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس رپورٹ میں خطے کے دیگر شہروں کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایک نئی عالمی تحقیق کے مطابق دنیا بھر کے کئی اہم شہروں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ناکافی تیاریاں کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں پاکستان کے شہر بھی شامل ہیں۔ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی شدت کے واقعات روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اس تحقیق میں نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر بڑے شہروں جیسے کہ بھارت کے احمد آباد اور کولکتہ جبکہ بنگلہ دیش کے ڈھاکہ اور چٹاگانگ کو بھی موسمیاتی آفات کے خلاف انتہائی غیر محفوظ اور کم لچکدار قرار دیا گیا ہے۔ ان شہروں میں گرمی کی لہریں، سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی شدید ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں انسانی اور معاشی نقصانات سے بچا جا सके۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے شہروں کو فنڈنگ کی کمی، جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی اور ناکافی شہری منصوبہ بندی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر بروقت مناسب حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو یہ شہر مستقبل میں آنے والی بڑی موسمیاتی آفات کا باآسانی شکار بن سکتے ہیں۔ عالمی اداروں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائیں اور موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے جامع اقدامات کریں۔