World
اسرائیلی حملے غزہ میں جاری، حماس کے معاہدے پر رضامندی کے باوجود کشیدگی برقرار
اسرائیلی فورسز نے غزہ کے مختلف علاقوں میں تازہ فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں جن میں کم از کم دو فلسطینی شہید ہو گئے۔ یہ کارروائیاں حماس کی جانب سے ایک مجوزہ امن معاہدے کے تحت ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے چند گھنٹوں بعد عمل میں آئیں۔
خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے ہیں جن کے نتیجے میں کم از کم دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ تازہ ترین فوجی کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اس سے ایک روز قبل ہی فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ایک مجوزہ امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق کرتے ہوئے اپنے ہتھیار ڈالنے کی شرط پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس اچانک پیشرفت کے بعد بین الاقوامی سطح پر امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید طویل عرصے سے جاری خونریز تنازعے کے خاتمے کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آئے کیونکہ معاہدے کی خبروں کے چند گھنٹوں کے اندر ہی اسرائیلی طیاروں اور توپ خانے نے غزہ کے مختلف حصوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں شہریوں کے رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جو پہلے ہی محاصرے اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کے باوجود اسرائیل کی جانب سے جاری یہ حملے امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور علاقائی ممالک، نے فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ اس تازہ ترین کشیدگی نے خطے میں پائیدار امن کے حصول کے امکانات کو ایک بار پھر غغیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔