LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کا مجوزہ منصوبہ اور برطانیہ کا موقف

News Image
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے ایک نئی بستی بسانے کے مجوزہ منصوبے کی سخت مخالفت کی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے اس متنازع مقام کا دورہ کرکے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے بستی قائم کرنے کے ایک نئے مجوزہ منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ یہ تنازع ایک ایسے حساس علاقے سے جڑا ہے جہاں بین الاقوامی قوانین اور سفارتی کوششوں کے باوجود کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی کی مشرق وسطیٰ کی نامہ نگار لوسی ولیمسن نے اس مخصوص علاقے کا دورہ کیا ہے جہاں اسرائیل اس نئی بستی کو بسانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ زمینی حقائق کا قریب سے جائزہ لیا جا سکے۔ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کا یہ نیا منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی امن کی کوششیں شدید تعطل کا شکار ہیں۔ بین برطانوی حکام اور عالمی برادری کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور خطے میں پائیدار امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ عالمی قوانین کے تحت مقبوضہ علاقوں میں اس طرح کی آبادکاری کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے برطانوی حکومت نے اس معاملے پر کھل کر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، مجوزہ مقام پر مقامی آبادی اور جغرافیائی صورتحال انتہائی نزیں ہے، اور اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو اس سے اردگرد کے فلسطینی علاقوں پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ خطے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مقامی رہنما بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی حکومت نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے اور بات چیت کے دروازے بند کر دے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی سطح پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ برطانیہ سمیت کئی دیگر مغربی ممالک بھی اسرائیل کی آبادکاری کی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں۔ اس تنازع کے تصفیے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق اور حکومتی فیصلوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج خطے میں مزید بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔