Technology
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بچوں کی حفاظت سے متعلق نیا قانون
حکومت نے بچوں کی طرف سے نازیبا تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے قانون سازی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنیاں اگر خود سے تبدیلی نہ لائیں تو حکومت جلد از جلد نیا قانون نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں ایک نئے قانون کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ بچوں کی طرف سے نازیبا تصاویر بنانے اور انہیں آن لائن شیئر کرنے کے عمل کو مکمل طور پر روکیں۔ یہ اقدام بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مزید ذمہ دار بنایا جا سکے۔ حکومت کے مطابق اس معاملے میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون سازی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنیاں خود سے ضروری تبدیلیاں لے آئیں اور اپنے پلیٹ فارمز پر اس طرح کے مواد کو روکنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات نافذ کر دیں تو حکومت اس قانون سازی کے منصوبے پر نظر ثانی بھی کر سکتی ہے۔ تاہم، کمپنیوں کی جانب سے فوری اور خاطر خواہ اقدامات نہ کیے جانے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکومت چاہتی ہے کہ کمپنیاں خود ہی آگے بڑھیں اور کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے سخت اصول و ضوابط مرتب کریں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انہیں اپنے سسٹمز میں ایسے جدید الگورتھم اور فلٹرز نصب کرنا ہوں گے جو نامناسب مواد کو فوری طور پر شناخت کر کے اسے بلاک کر سکیں۔ والدین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس ارادے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے میں بڑی مدد ملے گی۔