LIVE
Loading Breaking News...

چینل بوٹ حادثہ: فرانسیسی عدالت میں چودہ ملزمان پر مقدمے کا آغاز

News Image
فرانسیسی عدالت میں نومبر 2021 کے تارکین وطن کے مہلک ترین کشتی حادثے کا مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔ اس حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت کم از کم تیس افراد سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے۔
فرانس میں سنہ دو ہزار اکیس کے اواخر میں پیش آنے والے تارکین وطن کے بدترین سمندری حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں چودہ افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن پر انسانی اسمگلنگ اور غفلت برتنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ المناک واقعہ چوبیس نومبر دو ہزار اکیس کو پیش آیا تھا جب انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کرنے والی تارکین وطن کی ایک ربڑ کی ڈنگی اچانک الٹ گئی تھی اور پانی میں ڈوبنے سے بچوں اور خواتین سمیت کم از کم تیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یہ واقعہ تارکین وطن کی تاریخ کے سب سے بڑے اور خطرناک سمندری حادثات میں شمار کیا جاتا ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ اور متاثرین کے وکلاء کی جانب سے ملزمان کے کردار پر روشنی ڈالی جائے گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کس طرح خطرناک حالات میں انسانوں کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا۔ اس مقدمے کو تارکین وطن کے حقوق اور سمندری گزرگاہوں پر سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرہ خاندان طویل عرصے سے اس المناک سانحے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ آئندہ ایسے دردناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت میں پیش ہونے والے گواہان اور شواہد کی روشنی میں آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں جو اس تاریک کاروبار کی پرتیں ادھیڑ کر رکھ دیں گے۔