LIVE
Loading Breaking News...

سپینش فٹ بال فیڈریشن کا خواتین کھلاڑیوں کے لیے زرخیزی کا معاونت پروگرام

News Image
سپینش فٹ بال فیڈریشن نے خواتین کھلاڑیوں اور ریفریز کے لیے زرخیزی سے متعلق طبی معاونت کا پروگرام شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کے تحت قومی ٹیم میں شامل ہونے والی کھلاڑیوں کے اخراجات بھی اٹھائے جائیں گے۔
سپینش فٹ بال فیڈریشن نے خواتین کھلاڑیوں اور ریفریز کی فلاح و بہبود اور ان کے طبی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے زرخیزی کی معاونت (فرٹیلیٹی سپورٹ) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے پروگرام کا مقصد خواتین کے صحت کے مسائل کو حل کرنا اور کھیل کے میدان میں ان کے کیریئر کو طویل المدتی بنیادوں پر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ فیڈریشن کے اس فیصلے کو کھیلوں کے حلقوں میں انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا بھر میں خواتین ایتھلیٹس کے لیے ایسے اقدامات کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ منصوبے کے تحت، فیڈریشن کی جانب سے خواتین کھلاڑیوں اور ریفریز کو زرخیزی سے متعلق طبی مشورے اور معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے خاندانی اور پیشہ ورانہ کیریئر میں بہتر توازن قائم رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ، جو بین الاقوامی کھلاڑی سال میں کم از کم دو بار قومی ٹیم کے لیے طلب کی جائیں گی، ان کے تمام متعلقہ اخراجات بھی فیڈریشن برداشت کرے گی۔ یہ مالی اور طبی معاونت کھلاڑیوں پر سے دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور وہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے اپنی کھیل پر توجہ مرکوز کرسکیں گی۔ کھیلوں کے ماہرین اور خواتین کے حقوق کے علمبرداروں نے سپینش فیڈریشن کے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے فٹ بال میں صنفی مساوات اور خواتین کی شمولیت کو فروغ ملے گا۔ روایتی طور پر کھیلوں کے اندر خواتین کے مخصوص طبی مسائل پر کھل کر بات نہیں کی جاتی تھی، لیکن اس نوعیت کے پالیسی فیصلوں سے ایک نیا راستہ کھلے گا اور دیگر ممالک کے فیڈریشنز پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ خواتین کھلاڑیوں کی صحت اور فلاح کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس پروگرام سے آنے والے دنوں میں نہ صرف ہسپانوی خواتین فٹ بالرز اور ریفریز کو براہ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ یہ عالمی سطح پر خواتین کے کھیلوں کے لیے ایک سنہری معیار بھی قائم کرے گا۔ فیڈریشن نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کا تحفظ اور ان کی صحت تنظیم کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں مستقبل میں مزید فلاحی اقدامات بھی متعارف کروائے جائیں گے۔