World
فلپائنی دفاعی سربراہ کا چین پر جارحیت اور غنڈہ گردی کا الزام
فلپائنی دفاعی سیکرٹری نے پینل مباحثے کے دوران چین کی جانب سے نوٹ تھمانے کے واقعے پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے بیجنگ کے اس اقدام کو غنڈہ گردی اور جارحانہ ہتھکنڈے قرار دیا ہے۔
فلپائنی دفاعی سیکرٹری نے حال ہی میں ایک اہم بین الاقوامی پینل مباحثے کے دوران چین کی طرف سے مبینہ طور پر ایک نوٹ تھمانے کے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو کھلم کھلا جبر، غنڈہ گردی اور جارحیت سے تعبیر کیا ہے، جو خطے میں بڑھتے ہوئے کشیدہ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ہتھکنڈے بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی آداب کے منافی ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب جنوبی بحیرہ چین اور اس کے اردگرد کے سمندری خطے میں جغرافیائی سیاسی تناؤ عروج پر ہے۔ فلپائن اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سمندری حدود اور ملکی خودمختاری کے حوالے سے تنازعات چلے آ رہے ہیں۔ فلپائنی دفاعی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حربے دراصل چھوٹے ممالک پر دباؤ ڈالنے اور انہیں اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تازہ واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ فلپائن نے اس معاملے پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے علاقائی خودمختاری کے احترام پر زور دیا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سمندری تجارت اور سلامتی کے امور کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے، کیونکہ یہ خطہ عالمی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔