World
قطر کا نیتن یاہو کے مخالف ریاست والے بیان پر ردعمل
قطر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے قطر کو ایک مخالف ریاست قرار دیا تھا۔ دوحہ نے اس بیان کو خطے میں امن کی کوششوں کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
قطر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس دعوے پر گہری تشویش اور سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے قطر کو ایک 'مخالف ریاست' کے طور پر پیش کیا تھا۔ قطری حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں اور یہ علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔
بنجمن نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور قطر سمیت بین الاقوامی برادری غزہ اور مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔ قطر طویل عرصے سے مختلف ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے اور اس کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، تاہم اسرائیلی قیادت کی طرف سے اس قسم کے بیانات دوحہ کے کردار پر بلاجواز تنقید کے زمرے میں آتے ہیں۔
عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور قطر کے درمیان کشیدگی میں اس تازہ بیان کے بعد مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ قطر نے اپنے موقف میں واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے اس طرح کے بیانات کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوششیں کیوں نہ کی جائیں۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں قطری وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کے بیانات کا نوٹس لے جو امن عمل کے لیے نقصان دہ ہیں۔ دوحہ میں حکام کا کہنا ہے کہ قطر خطے میں تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنی تعمیری سفارت کاری جاری رکھے گا اور کسی بھی اشتعال انگیز پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہوگا۔