World
فرانس میں رینور میوزیم پر ڈکیتی، کروڑوں کی پینٹنگز چوری
فرانس کے جنوبی علاقے میں واقع رینور میوزیم میں علی الصبح ہونے والی چوری کے دوران نامعلوم ملزمان کروڑوں روپے مالیت کے چار نادر فن پارے اڑا کر لے گئے۔ پولیس حکام نے اس واردات کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر تلاش شروع کر دی ہے۔
فرانس کے جنوبی علاقے میں واقع مشہور رینور میوزیم میں ایک بڑی ڈکیتی کی واردات پیش آئی ہے جہاں نامعلوم چور علی الصبح میوزیم میں گھس کر ایک کروڑ پانچ لاکھ ڈالر مالیت کے چار نادر فن پارے چرا کر فرار ہو گئے۔ اس سنسنی خیز واردات نے فرانسیسی حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور ملک بھر کے سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چوروں نے انتہائی مہارت سے اس کارروائی کو انجام دیا اور انتہائی نگہداشت میں رکھے جانے والے فن پاروں کو نشانہ بنایا۔ میوزیم انتظامیہ اور مقامی پولیس نے واقعے کی فوری اطلاع ملنے پر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس اور دیگر فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس دوران سکیورٹی گارڈز اور عملے سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس چوری میں اندرونی ہاتھ شامل تھا یا نہیں۔ رینور کے یہ شاہکار دنیا بھر میں فنونِ لطیفہ کے شائقین کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی چوری کو عالمی ثقافتی ورثے کو ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح کے فن پاروں کو بلیک مارکیٹ میں بیچنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کی شناخت فوری طور پر ہو جاتی ہے، اس لیے یہ بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ واردات کسی بین الاقوامی گینگ نے کسی مخصوص خریدار کے کہنے پر کی ہو۔ پولیس اس زاویے سے بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ پینٹنگز ملک سے باہر سمگل کی جائیں گی یا مقامی سطح پر چھپائی جائیں گی۔ فرانسیسی وزارتِ ثقافت نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ چوری شدہ فن پاروں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انٹرپول کو بھی اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ قریبی ممالک کی سرحدوں پر بھی کڑی نظر رکھی جا سکے تاکہ چور فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔