Politics
محسن نقوی کا نظام حکومت میں تبدیلی کا مطالبہ، سیاسی اور قانونی حلقوں میں گرما گرم بحث
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس اور گورننس کے نظام میں تبدیلی کے مطالبے نے ملک بھر میں ایک نیا سیاسی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور لاہور کے وکلاء نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے آئین کے منافی قرار دیا ہے۔
اسلام آباد اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کے بعد ایک نیا سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے جس میں انہوں نے موجودہ حکومتی نظام کے خاتمے اور نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر سنجیدہ بیٹھک کی دعوت دی تھی تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ وزیر داخلہ کے اس بیان کے سامنے آتے ہی سیاسی میدان میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں اور اداروں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس معاملے کو اپنی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پارٹی رہنما نیر بخاری کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات کے لیے آئینی طریقہ کار پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ کوئی بھی نیا صوبہ یا انتظامی اکائی بغیر دو تہائی اکثریت اور آئینی ترامیم کے نہیں بنائی جا سکتی اور اس معاملے کو ایوانِ پارلیمنٹ میں زیر بحث لایا جانا چاہیے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیر داخلہ کی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مسترد شدہ بیانیہ قرار دیا اور کہا کہ سندھ کے غیور عوام اس قسم کی کسی بھی تقسیم کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ موجودہ سیاسی نظام کے اندر تمام بڑی جماعتیں حکومتیں چلا رہی ہیں تو پھر اس نظام کو اچانک خراب قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ادھر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی وزیر داخلہ کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا ہے۔ بار کے عہدے داروں کا مشترکہ بیان میں کہنا تھا کہ ملک کی ترقی اور بقا کا انحصار صرف اور صرف آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر ہے، نہ کہ نئے تجربات پر۔ اس کے علاوہ سندھی قوم پرست جماعتوں نے بھی محسن نقوی کے بیان کو سندھ کی تقسیم کی سازش قرار دیتے ہوئے ان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے ملک میں وفاق اور اکائیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔