World
يمن ميں جنگ کی واپسی، صنعا اور بحرِ احمر کے ليے نئی کشمکش
يمن ميں جاری تنازعے کے ايک بار پھر شدت اختيار کرنے سے خطے ميں طويل جنگ کا خطرہ پيدا ہو گيا ہے۔ تجزيہ کاروں کے مطابق صنعا اور بحرِ احمر کے محاذ پر ہونے والی حالیہ پيشرفت کسی حتمی فيصلے کی بجائے ايک طويق اور نئے تنازعے کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔
يمن ميں جاری بحران نے ايک بار پھر خطرناک رخ اختيار کر ليا ہے جہاں صنعا اور بحرِ احمر کے اہم بحری راستوں پر نئے سرے سے کشمکش کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے خطے کے امن کو خطرے ميں ڈال دیا ہے اور عالمی برادری کی توجہ اس طویل عرصے سے سلگتے ہوئے تنازعے کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ تجزيہ کاروں اور عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ يمن کی جنگ کا یہ نیا مرحلہ کسی فوری اور حتمی عسکری فيصلے کا باعث بننے کی بجائے، ايک اور طویل مدتی اور تھکا دینے والے تنازعے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ جنگ کے اس نئے دور نے انسانی الميے کو بھی مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات ميں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب بحرِ احمر ميں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی کو درپیش چیلنجز بدستور برقرار ہيں، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز بھی براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ مختلف علاقائي اور عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تنازعے کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ فوری طور پر امن کی بحالی کے امکانات بہت کم ہیں اور فریقین کے مابین محاذ آرائی ميں مزید تیزی آسکتی ہے۔