World
غزہ میں ملبے اور مٹی کی اینٹوں سے گھروں کی تعمیر نو
غزہ کا نوے فیصد سے زائد حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے جس کی وجہ سے شہریوں نے محدود وسائل کے ساتھ مٹی کی اینٹوں سے گھر بنانا شروع کر دیے ہیں۔ شدید بحران کے باوجود فلسطینی عوام اپنے پیاروں کے لیے چھت کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔
غزہ کی پٹی پر طویل تباہ کن کارروائیوں کے بعد خطے کا نوے فیصد سے زائد حصہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اس لرزہ خیز صورتحال نے ہزاروں بے گھر خاندانوں کو انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تعمیراتی سامان کی رسائی مکمل طور پر بند ہونے اور سرحدوں کی سخت ناکہ بندی کے باعث شہریوں کے پاس اپنی مدد آپ کے تحت گھر تعمیر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں بچا۔ اس سنگین انسانی بحران میں فلسطینی شہریوں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے انوکھا راستہ نکالا ہے اور وہ گھروں کے کھنڈرات سے نکلنے والے ملبے، لوہے کے پرانے ٹکڑوں اور مٹی کی اینٹوں کا استعمال کرتے ہوئے عارضی اور متبادل شیلٹرز بنا رہے ہیں۔ یہ مٹی کی اینٹیں روایتی طریقوں سے ہاتھ سے تیار کی جا رہی ہیں تاکہ سخت سردی اور گرمی میں بچوں اور خواتین کو سر چھپانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ مل سکے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بارہا اس بات کا انتباہ کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران سنگین ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے یا خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ خیمے بھی موسم کی سختیوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ مٹی کی یہ اینٹیں اور ملبے سے تیار شدہ دیواریں بظاہر کمزور لگتی ہیں، لیکن محصور عوام کے لیے یہ امید کی ایک کرن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی گھروں کے ملبے پر کھڑے ہو کر دوبارہ زندگی کی شروعات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس مایوس ہو کر بیٹھنے کا کوئی اختیار موجود نہیں۔
ان تمام تر مشکلات کے باوجود، غزہ کے باسیوں کی جرأت اور عزم اپنی مثال آپ ہے۔ اس مشکل وقت میں بھی بچے اور بڑے مل کر اینٹیں بنانے اور ملبہ صاف کرنے کے کام میں مصروف ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر غزہ کے لیے تعمیراتی سامان، سیمنٹ اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو یقینی بنائیں تاکہ ان بے گھر خاندانوں کی مناسب مدد کی جا سکے۔ ت حال، جب تک بین الاقوامی سطح پر کوئی موثر امدادی راہداری نہیں کھلتی، غزہ کے یہ غیور عوام اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اجڑے ہوئے دیار کو دوبارہ سنوارنے کی طویل اور صبر آزما جنگ اکیلے ہی لڑ رہے ہیں۔