LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں پر برطانیہ کی پابندیوں سے گریز کا اعلان

News Image
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں پر برطانیہ کی جانب سے لگائی جانے والی تجارتی پابندیوں کی تقلید نہیں کرے گا۔ واشنگٹن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں برطانوی پالیسی کے ساتھ آگے نہیں بڑھے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کے خلاف برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ تجارتی پابندیوں کی تقلید ہرگز نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کا موقف اس معاملے میں برطانوی حکومت سے مختلف ہے اور امریکہ اس پالیسی کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ برطانیہ اور چند دیگر یورپی ممالک نے ان غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات اور مصنوعات کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے یا پابندیاں عائد کی ہیں۔ تاہم، واشنگٹن کی طرف سے اس قسم کے کسی بھی اقدام سے واضح انکار نے بین الاقوامی سیاست میں ایک بار پھر روایتی اتحادیوں کے درمیان پالیسیوں کے فرق کو اجاگر کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ کا یہ موقف اسرائیل کے ساتھ اس کے دیرینہ اور گہرے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر اور خاص طور پر یورپی ممالک میں سفارتی حلقوں کے اندر اس پر مزید بحث چھڑنے کا امکان ہے۔ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ کے اپنے قومی مفادات اور خارجہ پالیسی کے اصول ہیں جن کے تحت وہ مشرق وسطیٰ کے امور میں فیصلے کرتا ہے۔ اس پورے واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغربی ممالک کے اتحاد کے باوجود بعض اہم علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز پر ان کے طریقۂ کار میں تضاد موجود ہے جو مستقبل میں سفارتی سطح پر بحث کا اہم نکتہ بنا رہے گا۔