World
غزہ پر اسرائیلی حملے، خان یونس اور البریج میں بڑے پیمانے پر تباہی
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں خان یونس اور البریج مہاجر کیمپ میں شدید نقصان ہوا ہے اور متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ان تازہ حملوں کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ اور مکین بے گھر ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی بمباری نے خان یونس اور البریج پناہ گزین کیمپ کو بالخصوص نشانہ بنایا ہے، جہاں ہر طرف تباہی کے مناظر اور دھوکے کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ہونے والے شدید دھماکوں سے عام شہریوں کے جانی و مالی نقصان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
خان یونس کے مختلف حصوں میں مکانات کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق، بمباری اتنی شدید تھی کہ اس نے رہائشی عمارتوں کو لمحوں میں کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔ اسی طرح البریج کیمپ کے اوپر دھوکے کے سیاہ بادل چھائے رہے اور فضائی حملوں کے خوف سے فضا انتہائی کشیدہ رہی۔ اس مسلسل تشدد نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پہلے سے ہی محصور آبادی کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
حالیہ کارروائیوں کے بعد ہزاروں بے گھر خاندان محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان بے گھر افراد کے پاس نہ تو سر چھپانے کی مناسب جگہ ہے اور نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات دستیاب ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید انسانی المیے کو روکا جا سکے۔