Pakistan
جنوبی وزیرستان میں جے یو آئی کے عالم دین فائرنگ سے جاں بحق
لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے برمل میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جے یو آئی کے عالم دین مولانا محمد اسماعیل جاں بحق ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے برمل میں تحصیل اعظم ورسک کے قریب نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) سے وابستہ معروف عالم دین مولانا محمد اسماعیل کو قتل کر دیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعہ کی نماز کے بعد پیش آیا جب مولانا محمد اسماعیل اپنی روزمرہ کی مصروفیات کے بعد واپس جا رہے تھے کہ گھات لگائے حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حملہ آور واردات کے بعد باآسانی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ضلع پولیس آفیسر (ڈی پی او) محمد طاہر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ابتدائی رپورٹ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور اس اندوہناک واقعے کو ہر ممکنہ زاویے سے جانچا جا رہا ہے۔ مقتول مولانا محمد اسماعیل کا تعلق کاژہ پنگا سے تھا اور وہ علاقے ہی میں ایک دینی مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ مقامی قبائلی عمائدین اور شہریوں میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد علاقے میں شدید صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے سیکورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں دینی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کو اس طرح کے حملوں کا نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں سال مئی کے مہینے میں چارسدہ میں بھی جے یو آئی ف کے سابق ایم پی اے اور معروف عالم دین مولانا محمد ادریس کو نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا جبکہ جنوری میں جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں مدرسے کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں جے یو آئی کے رہنما مولانا سلطان محمد وزیر شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے تھے۔ صوبے میں بڑھتی ہوئی اس قسم کی ٹارگٹ کلنگ اور پر تشدد کارروائیوں کے پیش نظر عوام اور سیاسی حلقوں کی طرف سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ علما اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سخت حفاظتی اقدامات اٹھائیں تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔