Sports
ببابراعظم کا دورہ انگلینڈ میں پی سی بی کے فیصلوں پر اظہارِ حیرت
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ دورہ انگلینڈ کے دوران پی سی بی کی جانب سے کوچنگ اسٹاف کو ہٹانے اور سات کھلاڑیوں کو گھر بھیجنے کا فیصلہ ان کے لیے بھی حیران کن تھا۔ بابر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ان فیصلوں سے ناواقف تھے اور بورڈ ہی اس کی بہتر وضاحت کر سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کے فیصلوں پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں کھیلے گئے میچ میں 194 رنز کی بڑی شکست کے بعد میزبان ٹیم نے تین میچوں کی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی تھی، جس کے بعد پی سی بی نے فوری طور پر ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ کپتان بابر اعظم نے ایجبسٹن میں ہونے والے آخری ٹیسٹ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام تبدیلیاں ان کی پشت پناہی کے بغیر اور ڈریسنگ روم سے باہر نیشنل سلیکشن پینل کی جانب سے کی گئیں۔ بابر کا کہنا تھا کہ یہ خبر ان کے لیے بھی بالکل نئی تھی اور انہیں ان فیصلوں کا علم بعد میں ہوا۔ پی سی بی کے اس ڈرامائی اقدام کے بعد ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جیمد نے واضح کیا تھا کہ کوچنگ اسٹاف کی برطرفی دوسرے ٹیسٹ سے قبل بعض سلیکشن کے فیصلوں پر عمل نہ کرنے کا ردعمل تھی۔ اس تمام ہنگامہ آرائی کے باوجود بابر اعظم کو آخری ٹیسٹ کے لیے کپتان برقرار رکھا گیا ہے، تاہم انہوں نے ان فیصلوں سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے ہی یہ فیصلے کیے ہیں لہذا بہتر یہی ہے کہ اس کی وضاحت بھی وہی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور کھلاڑی اور کپتان انہیں بورڈ کے فیصلوں کے ساتھ چلنا ہے کیونکہ بورڈ نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔ دوسری جانب، اس ہنگامہ خیز ہفتے کو پس پشت ڈالتے ہوئے بابر اعظم اور وائٹ بال کے نئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے پاس اب آخری ٹیسٹ کے لیے کئی نئے چہرے موجود ہیں۔ امام الحق، محمد رضوان اور سلمان علی آغا جیسے سینئر کھلاڑیوں کو سیریز کے وسط میں ہی اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا تھا جبکہ ان کی جگہ آنے والے کھلاڑیوں میں متعدد ناتجربہ کار نوجوان شامل ہیں۔ بابر اعظم نے اس صورتحال کو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیریز تو ہاتھ سے نکل چکی ہے لیکن ٹیم کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس لیے وہ بغیر کسی دباؤ کے میدان میں اتر کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ ٹیم نے پریکٹس کے دوران طویل گفتگو کی ہے اور نئے کھلاڑیوں کی آمد سے اسکواڈ میں ایک نئی جوش و خروش کی لہر دوڑ گئی ہے۔