LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندی اور پابندیوں کا اعلان

News Image
برطانوی حکومت نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مبینہ نسلی تطہیر اور بڑھتے ہوئے تشدد کے پیش نظر غیر قانونی بستیوں کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام میں برطانیہ کے ساتھ فرانس اور کینیڈا سمیت بارہ ممالک شامل ہیں، جبکہ امریکہ نے اس پابندی میں شامل نہ ہونے کا واضح اعلان کیا ہے۔
برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ قدم خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس صورتحال کو ایک اخلاقی ہنگامی صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے پر خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی اور دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ وزیر خارجہ نے زور دیا کہ تل ابیب انتظامیہ نے بستیوں کے پھیلاؤ اور پرتشدد کارروائیوں پر جان بوجھ کر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اس فیصلے کے تحت برطانیہ ان تمام کمپنیوں اور افراد کو بھی نشانہ بنائے گا جو بستیوں کی تعمیر، فنانسنگ یا انفراسٹرکچر کی فراہمی میں ملوث ہیں۔ علاوہ ازیں، غیر قانونی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمدات پر پابندی اور ان کی جائیدادوں کے اشتہارات پر بھی قدغن لگائی جائے گی۔ یہ اقدامات آئندہ چھ سے نو ماہ کے دوران باضابطہ طور پر نافذ کر دیے جائیں گے۔ برطانیہ کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور کینیڈا سمیت کل بارہ ممالک نے مشترکہ طور پر اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کو محدود کرنے یا قومی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ نے اس برطانوی اقدام سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ان پابندیوں میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ وہ اس وقت مغربی کنارے میں کسی بھی قسم کے عدم استحکام سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ دریں اثنا، اسرائیلی عدالت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے قریب متنازعہ تعمیراتی منصوبے کے خلاف دائر کردہ درخواست کو مسترد کیے جانے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔