World
خواجہ آصف کا مکہ دفاعی معاہدے اور سعودی عرب کے بارے میں بیان
وفاقی وزیر خواجہ آصف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد خبردار کیا ہے کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے کی پوری صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔ اس بیان سے خطے میں دفاعی تعاون اور سکیورٹی خدات پر ایک بار پھر اہم بحث شروع ہو گئی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر خواجہ آصف نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے بعد ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اس کا بھرپور احترام کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور خلیجی ممالک کو نئی دفاعی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان ہمیشہ سے پرعزم رہا ہے اور یہ نیا انتباہ خطے میں تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف حصوں کو نشانہ بنانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں اور کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں یہ روابط مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ خواجہ آصف کا یہ موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے دیرینہ اتحادی کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر مکمل عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا پر خواجہ آصف کے حوالے سے زیر گردش کچھ کلپس اور بیانات کے بارے میں فیکٹ چیک اداروں نے وضاحت کی ہے کہ وہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی مدد سے تیار کردہ جعلی مواد ہیں۔ انڈین اور دیگر ذرائع سے پھیلائے جانے والے اس پروپیگنڈے کا مقصد پاکستان کے اندرونی بحرانوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔ تاہم، حکومتِ پاکستان اور اس کے ذمہ دار وزراء کی طرف سے وقتاً فوقتاً یہ واضح کیا جاتا رہا ہے کہ ملکی دفاع اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
خطے میں امن و امان کی بحالی اور جارحیت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے لیے یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ دفاعی معاہدوں کی پاسداری سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم ہوں گے بلکہ خلیجی خطے میں کسی بھی بڑی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سفارتی رابطوں اور اعلیٰ سطح کے دوروں کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ خطے کے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔