Business
پاکستان گندم کی درآمد، خوراک کی سیکیورٹی اور قیمتوں کا کنٹرول
ملک میں غذائی تحفظ اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات فوری طور پر تیز کیے جائیں۔
پاکستان نے ملک میں گندم کی ممکنہ قلت اور قیمتوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے حالیہ فیصلوں کے تحت ملک میں گندم کی درآمد کا عمل شروع کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم باہر سے منگوائی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور آٹے و گندم کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا ہے تاکہ عام صارفین کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو کڑی نگرانی کی ہدایات جاری کی ہیں۔
اجلاسوں کے دوران نائب وزیراعظم نے پاسکو (PASSCO) کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ملک کے مختلف صوبوں کو گندم کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ مقامی مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن برقرار رہے۔ دوسری جانب پنجاب میں گندم کے معیار اور کسانوں کے حقوق کے حوالے سے بھی اہم بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈان اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب میں گندم کے معیار کے حوالے سے کچھ تنازعات بھی سامنے آئے ہیں جس پر زرعی حلقوں اور تاجروں کی طرف سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے ایک عہدیدار نے اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گندم کی پالیسی کا بنیادی اور جامع جائزہ لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک کے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور انہیں ان کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
حکومت کے اس فیصلے کو جہاں ایک طرف خوراک کی قلت سے بچنے کے لیے ایک بروقت اقدام قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف زرعی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ درآمدی فیصلوں کے ساتھ ساتھ مقامی کاشتکاروں کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ کسان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر مقامی کسانوں کو ان کی اجناس کی مناسب قیمت اور کھاد و بیج پر سبسڈی نہ دی گئی تو مستقبل میں ملک کی زرعی خود کفالت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ وزارتیں اس بات کا اعادہ کر رہی ہیں کہ کسانوں اور صارفین دونوں کے مفادات کا توازن برقرار رکھا جائے گا اور ملک میں گندم یا آٹے کا کوئی بحران پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔