World
برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں تاریخی کشیدگی اور تجارتی پابندیاں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر لندن کی پابندی کے بعد برطانوی اور اسرائیلی تعلقات میں تناؤ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سفارتی کشیدگی کئی دہائیوں میں اپنی نچلی ترین سطح پر ہے۔
برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جسے ماہرین نے کئی دہائیوں کی کم ترین سطح قرار دیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات انتہائی نچلے درجے پر پہنچ گئے ہیں۔ لندن کے اس قدم نے اسرائیلی سیاسی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے اور اسرائیل کی طرف سے سامنے آنے والا ردعمل اس بات کا غماز ہے کہ یہ لمحہ سفارتی لحاظ سے کتنا نازک اور اہم ہے۔ برطانوی پالیسی میں اس تبدیلی کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس نے روایتی اتحادیوں کے درمیان خلیج کو مزید چوڑا کر دیا ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق، مقبوضہ علاقوں میں سرگرمیوں اور بستیوں کی توسیع کے معاملے پر مغربی ممالک کا رویہ اب زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے، اور برطانیہ کا یہ فیصلہ اسی تبدیل ہوتی ہوئی عالمی سفارتی سمت کا ایک اہم حصہ ہے۔ دوسری جانب، تل ابیب میں اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایسے فیصلے دوطرفہ تزویراتی تعاون کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ برطانیہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہنے کا اشارہ دے رہا ہے جبکہ اسرائیل اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔