LIVE
Loading Breaking News...

ٹم مونٹگمری کا ریفارم پارٹی سے استعفیٰ، معطلی کا تنازعہ

News Image
معروف سیاسی تبصرہ نگار ٹم مونٹگمری نے گزشتہ ماہ معطلی کے بعد اب باضابطہ طور پر ریفارم پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ اٹھارہ ماہ قبل کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر اس جماعت میں شامل ہوئے تھے۔
برطانیہ کے معروف سیاسی مبصر اور تبصرہ نگار ٹم مونٹگمری نے باضابطہ طور پر ریفارم یو کے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ گزشتہ ماہ پارٹی کی جانب سے ان کی معطلی کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے برطانوی سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ٹم مونٹگمری نے اپنی سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی کے اس باب کو اب ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ٹم مونٹگمری نے محض اٹھارہ ماہ قبل ہی روایتی کنزرویٹو پارٹی یعنی ٹوریز کا ساتھ چھوڑا تھا اور ریفارم یو کے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، جہاں انہیں ایک اہم فکری آواز سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم، حالیہ چند ہفتوں کے دوران ان کے اور پارٹی قیادت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی جس کا نتیجہ ان کی معطلی کی صورت میں نکلا۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ٹم مونٹگمری کی پارٹی سے علیحدگی ریفارم یو کے کے لیے ایک بڑا دھٹکا ہے، جو اس وقت برطانیہ کے سیاسی منظر نامے پر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ معطلی کے معاملے پر دونوں جانب سے محتاط ردعمل سامنے آیا ہے، لیکن ٹم مونٹگمری کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب اس سیاسی پلیٹ فارم کا مزید حصہ نہیں بننا چاہتے۔ برطانوی سیاست میں ٹم مونٹگمری کو ایک با اثر تجزیہ کار کی حیثیت حاصل ہے اور ان کے فیصلوں کو میڈیا میں کافی اہمیت دی جاتی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی چھوڑنے کے بعد ان کا ریفارم پارٹی میں جانا ایک بڑا سیاسی سرخی بنا تھا، اور اب ان کا اس جماعت سے استعفیٰ دینا ایک بار پھر انہیں سیاسی بحث کے مرکز میں لے آیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹم مونٹگمری اپنے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کریں گے، جبکہ یہ دیکھنا بھی باقی ہے کہ ریفارم یو کے اس صورتحال سے کیسے نبردآزما ہوتی ہے۔