Business
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی، اگست کے لیے آر ایل این جی مہنگی
حکومت نے جمعہ کے روز اگلے تین دنوں کے لیے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ دریں اثنا، اوگرا نے اگست کے لیے ری گیسفائیڈ لیکفائیڈ نیچرل گیس (RLNG) کی قیمت میں ریکارڈ 32 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے جمعہ کے روز پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بالترتیب 12 پیسے اور 66 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔ قیمتوں میں اس ردوبدل کے بعد پٹرول اب 336.03 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 392.38 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ حکومت کی جانب سے پٹرول پر 110 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 96 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بدستور وصول کیے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں یکم اگست سے 3 اگست تک نافذ العمل ہوں گی۔ اس دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی ہے تاکہ صارفین کو جزوی ریلیف فراہم کیا جا سکے، کیونکہ یہ ایندھن ملک بھر میں نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے علاوہ بھاری ٹرانسپورٹ سیکٹر اور پاور پلانٹس میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، ایک بڑے معاشی دھچکے کے طور پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اگست کے لیے آر ایل این جی (RLNG) کی قیمت میں ریکارڈ 32 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد سوئی ناردرن کے لیے قیمت 25.83 ڈالر اور سوئی سدرن کے لیے 25.09 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی ہے، جس کا ریٹیل تخمینہ 7,204 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو لگایا گیا ہے۔ یہ قیمت سپاٹ مارکیٹ سے پانچ درآمدی کارگو کی بنیاد پر طے کی گئی ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے قطر سے کوئی کھیپ محفوظ نہیں کی جا سکی تھی۔ آر ایل این جی کی تاریخ میں یہ ایک ماہ میں سب سے بڑا سنگل اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے سے بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے مارے عوام پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔ یاد رہے کہ پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ کے باعث اب ایندھن کی قیمتوں کا فیصلہ روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کے اس حکومتی فیصلے کو آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے اور ایسوسی ایشن نے اس ہفتے احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی معیشت میں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے شعبے ہیں، جن کی ماہانہ فروخت سات سے آٹھ لاکھ ٹن کے قریب ہے۔