LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا فیصلہ

News Image
برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی اشیا پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد اسرائیل نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس فیصلے کے جواب میں اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں قائم برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کیے جانے کے فیصلے کے بعد بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ برطانوی حکومت کے اس اقدام کا مقصد مقبوضہ علاقوں میں جاری سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانا ہے، جسے عالمی سطح پر تنازع کے حل کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے ردعمل میں اسرائیلی حکومت نے انتہائی سخت قدم اٹھاتے ہوئے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں واقع برطانوی قونصل خانے کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے یہ اقدام برطانیہ کے اس نئے تجارتی اور سفارتی فیصلے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے جس میں غیر قانونی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کے داخلے کو روکا گیا ہے۔ اسرائیل اس قسم کی پابندیوں کو اپنے اندرونی امور اور خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے، اور قونصل خانے کی بندش کو اسی جوابی کارروائی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سفارتی کشیدگی نے خطے میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے جس پر عالمی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برطانوی پابندی اور اس کے جواب میں اسرائیلی قونصل خانے کی بندش سے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی حیثیت اور بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں یہ تنازع پہلے ہی انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوئی بات چیت ہوتی ہے یا تعلقات مزید کشیدہ ہوتے ہیں۔