World
امریکہ کا چینی کمپنیوں سے تعلقات پر فورڈ کو انتباہ
امریکی حکام نے چین کی معروف کمپنیوں کے ساتھ فورڈ کی شراکت داری پر سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ تنبیہہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور سیکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی اور اسٹریٹجک کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب امریکی حکام نے موٹرساز ادارے فورڈ موٹرز کو چین کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ اس کے کاروباری اور صنعتی شراکت داری کے معاملات پر سخت انتباہ جاری کیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے اشتراک سے ملک کی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ فورڈ موٹرز نے حالیہ برسوں کے دوران چین کی چند اہم اور معروف کمپنیوں بشمول بیٹری بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی سی اے ٹی ایل، گিলি اور بی وائی ڈی کے ساتھ مختلف نوعیت کے معاہدے اور شراکتیں قائم کی ہیں۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور بیٹری ٹیکنالوجی میں بہتری لانا ہے، تاکہ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کو برقرار رکھا جا سکے، تاہم امریکی پالیسی سازوں نے ان روابط کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی قانون سازوں اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی ٹیکنالوجی اور سرمائے پر اس حد تک انحصار امریکہ کے اندرونی معاشی استحکام اور دفاعی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ آٹوموبائل سیکٹر میں بھی چینی اثر و رسوخ کو محدود کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے بڑے سیکیورٹی بحران سے بچا جا سکے اور مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، فورڈ موٹرز اور دیگر کار ساز ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی منڈی میں آگے بڑھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے اس وارننگ کے بعد فورڈ موٹرز اپنی چینی شراکت داری کی پالیسی میں کس قسم کی تبدیلیاں لاتی ہے اور اس کا عالمی آٹوموبائل مارکیٹ پر کیا اثر پڑتا ہے۔