LIVE
Loading Breaking News...

کامنز ویلتھ گیمز 2026: فاطمہ زہرہ کا پہلا میڈل اور ارشد ندیم کی کارکردگی

News Image
فاطمہ زہرہ نے ویمنز باکسنگ کے 60 کلوگرام ایونٹ میں سیمی فائنل تک رسائی کے بعد پاکستان کے لیے پہلا کانسی کا تمغہ حاصل کر لیا ہے۔ دوسری جانب جیولین تھرو کے فائنل میں اولمپک چیمپئن ارشد ندیم ابتدائی رائؤنڈز میں ہی باہر ہو گئے ہیں۔
کراچی: سال 2026ء کے کامن ویلتھ گیمز میں جہاں تمام نگاہیں اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم پر جمی ہوئی تھیں، وہیں پاکستان کے لیے پہلا میڈل ویمنز باکسنگ میں سامنے آیا۔ فاطمہ زہرہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 60 کلوگرام ایونٹ کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا اور پہلے ہی اپنے لیے ایک میڈل پکا کر لیا تھا۔ کینیڈا کی ماریہ بتول الاحمدیہ کے خلاف سیمی فائنل میں شکست کے بعد فاطمہ زہرہ نے پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ مقابلے کے قوانین کے مطابق، سیمی فائنل ہارنے والے کھلاڑی کو کانسی کا میڈل دیا جاتا ہے، جس کی بدولت فاطمہ نے یہ اعزاز حاصل کیا۔ دوسری جانب ایتھلیٹکس کے میدان میں جیولین تھرو کے فائنل مقابلے میں شائقین کی بڑی تعداد کی نظریں پاکستان کے ارشد ندیم اور بھارت کے نیرج چوپڑا کے درمیان روایتی اور سنسنی خیز مقابلے پر مرکوز تھیں۔ تاہم، اس تمام توجہ کے باوجود سری لنکا کے رُمیش پاتھیراج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 89.75 میٹر دور نیزہ پھینکا اور سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے میلہ لوٹ لیا۔ پاکستان کی امیدوں کا مرکز رہنے والے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم اس فائنل میں اپنی روایتی فارم دکھانے میں ناکام رہے۔ ان کی بہترین کوشش صرف 77.41 میٹر رہی، جو کہ تمغے کی دوڑ میں شامل دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں کافی کم تھی۔ اس ناقص کارکردگی کے نتیجے میں ارشد ندیم فائنل کے پہلے تین راؤنڈز کے بعد ہی باہر ہونے والے چار کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے اور یوں وہ مقابلے سے باہر ہو گئے۔ دوسری طرف، بھارت کے نامور جیولین تھروور نیرج چوپڑا نے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 85.83 میٹر کی تھرو کی، جس کی بدولت وہ دوسرے نمبر پر رہے۔ اگرچہ ارشد ندیم کی قبل از وقت نااہلی پاکستانی شائقین کے لیے مایوس کن رہی، لیکن فاطمہ زہرہ کی جانب سے باکسنگ میں جیتا گیا کانسی کا تمغہ ملک کے لیے گیمز کا پہلا شاندار لمحہ ثابت ہوا، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔