LIVE
Loading Breaking News...

ناائن الیون کی بیماریاں اور اموات پر نهاړه ممدانی کا اہم بیان

News Image
نهاړه ممدانی کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد براہ راست حملوں میں جان کی بازی ہارنے والوں سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ بیان اس تناظر میں سامنے آیا ہے کہ ریسکیو ورکرز اور متاثرہ علاقوں کے مکین طویل عرصے سے زہریلے اثرات اور بیماریوں کا شکار ہیں۔
نهاړه ممدانی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے براہ راست نتیجے میں ہونے والی اموات کے مقابلے میں ان حملوں کے بعد پیدا ہونے والی مختلف زہریلی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد اب کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کے وقت فضا میں جو زہریلا غبار اور کیمیائی ذرات پھیلے تھے، انہوں نے طویل المدتی بنیادوں پر ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس المیے کے فورا بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے فائر فائٹرز، پولیس اہلکار، اور رضاکار دن رات جائے وقوعہ پر موجود رہے بغیر اس کے کہ وہ کس خطرناک ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت نے دھویں اور راکھ سے بھرپور فضا میں کام کیا، جس کے نتیجے میں سالوں بعد سانس کی سنگین بیماریاں، کینسر اور دیگر جان لیوا امراض نمودار ہوئے۔ ان بیماریوں نے اب اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں لے لی ہیں جتنی اس سیاہ دن حملوں کے وقت ہوئی تھیں۔ ماہرین صحت اور ڈاکٹرز بھی اس بات کی تصدیق کرتے رہے ہیں کہ 9/11 کے اثرات صرف اس ایک دن تک محدود نہیں تھے بلکہ اس کا دائرہ کار دہائیوں پر محیط ہے۔ متاثرہ افراد اور ان کے لواحقین طویل عرصے سے حکومتی امداد اور طبی سہولیات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ ان بیماریوں کا مقابلہ کیا جا سکے جو اس قومی سانحے کی یادگار کے طور پر ان کی زندگیوں میں باقی رہ گئی ہیں۔ نهاړه ممدانی کا یہ بیان ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جنگ اور دہشت گردی کے اثرات کتنے گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ حملے ختم ہو جانے کے بعد بھی متاثرہ معاشرے اور بالخصوص فرنٹ لائن ورکرز اس کی قیمت اپنی جانوں کی شکل میں چکا رہے ہیں، جو کہ اس سانحے کا ایک اور تاریک اور خوفناک پہلو ہے۔