World
یمن کی صورتحال: سرکاری افواج اور حوثی باغیوں میں جھڑپیں اور جنگ کا خدشہ
یمنی سرکاری افواج اور ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں تیزی آ گئی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر یمن میں ایک بار پھر مکمل پیمانے پر جنگ شروع ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمن میں سرکاری افواج اور ایران کی پشت پناہی رکھنے والے حوثی باغیوں کے درمیان ایک بار پھر جھڑپوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس کے بعد ملک میں ایک بار پھر مکمل پیمانے پر جنگ چھڑنے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ زمینی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان ہونے والے حالیہ مسلح تصادم نے طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور امن کی تمام کوششیں خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ عالمی اور علاقائی مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس تازہ کشیدگی سے نہ صرف یمن کے اندرونی حالات خراب ہوں گے بلکہ خطے کے امن کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
حوثی باغیوں اور یمنی حکومت کے حامی دستوں کے مابین ماضی میں بھی طویل خونریز تنازعہ جاری رہا ہے جس نے یمن کو دنیا کے بدترین انسانی بحران سے دوچار کیا۔ اگرچہ حالیہ برسوں کے دوران جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کی وجہ سے لڑائی کی شدت میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی تھی، تاہم حالیہ جھڑپوں نے اس نازک امن کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان سیاسی حل کے حصول میں ناکامی اور عدم اعتماد کی فضا ایک بار پھر میدانِ جنگ کا رُخ اختیار کر رہی ہے جو عام شہریوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے یمن میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ امدادی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اگر لڑائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یمن کے عوام ایک بار پھر شدید قحط، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات سے محرومی جیسی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ عالمی برادری اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تنازعے کے پرامن حل کے لیے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔