LIVE
Loading Breaking News...

حکومت کا پنشن کی ادائیگیوں اور تصدیق کے نظام میں اہم اصلاحات کا فیصلہ

News Image
وزارتِ خزانہ نے پنشنرز کی سہولت کے لیے بائیو میٹرک تصدیق اور لائف سرٹیفکیٹس کے عمل سے کمرشل بینکوں کا کردار ختم کر دیا ہے۔ اب یہ عمل نادرا اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ذریعے ڈیجیٹل انداز میں انجام پائے گا۔
اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے پنشنرز کو شدید مشکلات سے بچانے اور پنشن کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کمرشل بینکوں کا بائیو میٹرک تصدیق اور لائف سرٹیفکیٹس کی توثیق میں انتظامی کردار ختم کر دیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر جاری کردہ نئی معیاری طریقہ کار (SOPs) کے مطابق، اب پنشنرز کے بینک اکاؤنٹس کو ڈورمنٹ یا غیر فعال قرار دینے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے تاکہ ادائیگیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکیں۔ نئے نظام کے تحت، نادرا (NADRA) کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (CGA) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (MAG) کے ساتھ محفوظ اے پی آئی کے ذریعے براہِ راست منسلک کر دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل لائف سگنل براہِ راست نادرا سے متعلقہ سرکاری اداروں کو منتقل ہوگا، جس سے کمرشل بینکوں کا اس عمل میں عمل دخل بالکل ختم ہو جائے گا۔ اب کمرشل بینک صرف اور صرف 'پنشن ڈسبرسنگ ایجنسی' کے طور پر کام کریں گے اور ان کا لائف سرٹیفکیٹس یا بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ، روایتی کاغذی دستاویزات یعنی 'ڈسبرسرز ہاف' کا نظام بھی باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اب تمام وفاقی پنشنز براہ راست کریڈٹ سسٹم (DCS) کے ذریعے ادا کی جائیں گی۔ پنشنرز کو اب ہر چھ ماہ بعد یعنی 180 دنوں کے اندر کسی بھی وقت نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ یا مجاز مراکز کے ذریعے اپنی زندگی کی تصدیق کرانا ہوگی، جس کے لیے مارچ یا ستمبر کی مخصوص مدت کی قید بھی ختم کر دی گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ان احکامات کا مقصد پنشن کی وصولی کے عمل کو انتہائی آسان اور جدید بنانا ہے۔ بینکوں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ پنشنرز کے اکاؤنٹس کو غیر فعال یا ڈورمنٹ نہ کریں اور نہ ہی پنشنرز کو بلاوجہ برانچوں کے چکر لگانے پر مجبور کریں۔ ضعیف العمر یا ڈیجیٹل سہولیات سے محروم افراد کے لیے ضلعی اکاؤنٹس دفاتر میں متبادل انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی پنشنر کو پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔