LIVE
Loading Breaking News...

اڈیالہ جیل قیدیوں کی طبی سہولیات کے لیے آئینی عدالت میں درخواست

News Image
اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت میں درخواستیں دائر کر دی ہیں۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ انہیں بھی بانی پی ٹی آئی کی طرح نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
اڈیالہ جیل میں قید تین افراد نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے جس میں ان کی نجی اسپتالوں میں علاج کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ ان قیدیوں کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ انہیں بھی اسی طرح کی طبی سہولیات فراہم کی جائیں جیسی کہ سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ اختر چیمہ کے مطابق انہوں نے پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کی تشریح کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، جو کہ کسی بھی قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کے طریقہ کار کو کنٹرول کرتا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اس وقت ناگزیر ہو گیا جب عدالت عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم حکومت کی جانب سے انہیں سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد ان تینوں قیدیوں نے بھی اسی نوعیت کی ریلیف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جسے 31 اگست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ منگل کے روز دائر کی جانے والی ان نئی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے لیے مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے قیدیوں کے درمیان امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔ درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جیل کے قوانین کے تحت کسی بھی قیدی کو علاج کی بہتر سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور شدید بیماری کی صورت میں نجی اسپتال میں علاج کرانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ وکیل کے مطابق ان کے موکل کو اندرونی خون بہنے کا سنگین مسئلہ ہے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران انہیں علاج کے لیے آٹھ بار سرکاری اسپتال لے جایا گیا مگر سرکاری طبی نظام کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہیں مناسب طبی امداد ملنے پر تحفظات ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر تمام قیدیوں کو قانون کے مطابق یکساں سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور بیرون ملک مقیم اہل خانہ سے واٹس ایپ کے ذریعے بات چیت کی اجازت بھی دی جائے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ قید کا مطلب قانون کے مطابق آزادی پر پابندی ہے اور ہر تکنیکی سہولت کو بنیادی قرار نہیں دیا جا سکتا۔