LIVE
Loading Breaking News...

ایمان مزاری اور ہادی علی کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ملتوی

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے کیس میں وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت چوبیس ستمبر تک ملتوی کر دی۔ یہ فیصلہ این سی سی آئی اے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں وکیل اور انسانی حقوق کی سرکردہ کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کو معත්ل کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر سماعت بائیس ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس محمد اعظم خان نے ان درخواستوں پر سماعت کی۔ اس دوران عدالت میں جوڑے کے وکلا فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ سمیت دیگر قانونی ٹیم پیش ہوئی۔ عدالتی کارروائی کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پراسیکیوٹر عدالت میں پیش نہیں ہو سکے جن کی عدم دستیابی کے باعث کیس میں کوئی اہم پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ اس کے بعد عدالت نے مزید کارروائی آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی رواں سال جنوری کے آخر سے جیل میں قید ہیں۔ انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور مبینہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ بدسلوکی کے الزام میں درج کیے گئے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کے بعد ملک بھر کی سیاسی شخصیات، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور انہوں نے دونوں میاں بیوی کے شفاف ٹرائل کے حق پر زور دیا تھا۔ گرفتاری کے فورا بعد ایک سیشن عدالت نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون یعنی پیکا کے تحت متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں ایمان اور ہادی کو مجموعی طور پر سترہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سیشن عدالت نے جوڑے کو سائبر ٹہرازم، جرم کی ترویج اور جعلی معلومات پھیلانے کے مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائی تھیں۔ یہ مقدمہ اگست میں این سی سی آئی اے اسلام آباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مدعی میں درج کیا گیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایمان نے مبینہ طور پر کالعدم تنظیموں کے بیانات کو آگے بڑھایا جبکہ ان کے شوہر کو ان پوسٹس کو ری پوسٹ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ جوڑے نے اپنی سزاؤں کے خلاف فروری میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں جنہیں عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کو ہدایت کی تھی کہ سزا معطلی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کیا جائے۔ جولائی کے مہینے میں ہائی کورٹ نے قید جوڑے کی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا تھا جس کے بعد اب اس مقدمے کی باقاعدہ سماعتیں جاری ہیں اور آئندہ تاریخ پر مزید دلائل متوقع ہیں۔