Sports
فیفا نے ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ منسوخ کر دیا
فیفا کے صدر گیانی انفانتینو نے دنیا بھر کے فٹ بال حکام کی شدید مخالفت کے بعد ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری لانے کا منصوبہ ترک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یورپی اور ایشیائی فیڈریشنز سمیت کئی حلقوں نے اس تجویز کو فٹ بال کے کھیل اور اس کے وقار کے خلاف قرار دیا تھا۔
عالمی فٹ بال کی نگران تنظیم فیفا کے صدر گیانی انفانتینو نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ دنیا بھر کے فٹ بال حکام کی شدید مخالفت کے بعد ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری لانے کا متنازعہ منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے۔ فیفا کا مقصد ہمیشہ کھیل کو متحد کرنا اور بہتر بنانا رہا ہے، اور اسی تناظر میں اب یہ تجویز مزید آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔ فیفا نے منگل کو یہ منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت ففا فارورڈ انٹرپرائز کے قیام کے ذریعے چار ارب بیس کروڑ ڈالر تک کی رقم اکٹھی کرنے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔ اس تجارتی ذیلی ادارے کا مقصد ورلڈ کپ اور کلب ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کا انعقاد کرنا تھا۔ منصوبے کے حامیوں کا دعویٰ تھا کہ منظوری کی صورت میں اس سے فیفا کے تمام دو سو گیارہ ممبر ایسوسی ایشنز کو سال دو ہزار ستائیس کے اوائل میں بیس ملین ڈالر کی یکمشت ادائیگی کی جا سکے گی اور دو ہزار ستائیس سے دو ہزار تیس کے دورانیے کے لیے فنڈنگ میں بھی اضافہ ہو گا۔ تاہم اس اعلان کے ساتھ ہی فٹ بال کی دنیا میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا اور مختلف کنفیڈریشنز کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن نے منصوبے کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بروقت اور شفاف انداز میں ڈسکس کیا جانا چاہیے۔ یورپی فٹ بال کی نگران تنظیم یوفا نے سخت موقف اپناتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جب تک یہ تجاویز موجود ہیں اس کی کوئی بھی قومی ٹیم فیفا کے کسی مقابلے میں حصہ نہیں لے گی اور ورلڈ کپ کوئی سرمایہ کاری پراڈکٹ نہیں ہے۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب فیفا کے سینئر مشیر کارلوس کورڈییرو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اس منصوبے کو فٹ بال کے طویل مدتی مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ لاطینی امریکہ کی کنفیڈریشن کونمیبول نے بھی اس منصوبے کے ڈھانچے اور حکمرانی سے متعلق وضاحت طلب کی تھی۔ بڑھتے ہوئے دباؤ اور فیفا کے اندرونی حلقوں میں واضح تقسیم پیدا ہونے کے بعد گیانی انفانتینو کو بالاخر یہ قدم اٹھانا پڑا۔ انہوں نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ تمام آراء کو بغور سننے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ اس منصوبے نے تنظیم کے اندر ایسی تقسیم پیدا کر دی ہے جو کھیل کے بنیادی مقاصد کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد اب تمام فریقین کو دوبارہ ایک میز پر لانا اور فٹ بال کے فروغ بالخصوص ان ممالک کی مدد پر توجہ مرکوز کرنا ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔