World
کینیڈا کی جانب سے امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف نافذ، تجارتی جنگ میں شدت
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع میں شدت آتے ہی کینیڈا کے جوابی ٹیرف نصف شب سے نافذالعمل ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کی بحالی کے لیے فی الحال کوئی مذاکرات جاری نہیں ہیں۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ناکامی کے بعد کینیڈا کی طرف سے بیس ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف منگل کی نصف شب کے بعد باضابطہ طور پر نافذ ہو گئے ہیں۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کا مقصد ملک کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اٹھارہ ماہ سے جاری تجارتی تنازع میں مزید شدت آ گئی ہے۔ ان جوابی ٹیکسوں کا دائرہ کار اسٹیل، فرنیچر، ملبوسات اور الیکٹرانکس سمیت مختلف اشیا پر پندرہ سے پچاس فیصد تک کے ڈیوٹی ریٹس پر محیط ہے۔
اس ڈالر کے بدلے ڈالر کی جوابی کارروائی نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جبکہ امریکی اور کینیڈین حکام ایک ایسے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں جو محض دو ہفتے قبل طے پانے کے قریب محسوس ہوتا تھا۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے بھی شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، بالخصوص جب امریکی صدر کی جانب سے اس معاہدے میں مزید ایک دہائی کی توسیع سے انکار کیا جا چکا ہے۔
ماہرینِ معاشیات اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی سخت تشویش ہے کہ کہیں یہ صورتحال تجارتی تنازعات کے ایک لامتناہی سلسلے میں تبدیل نہ ہو جائے، تاہم وہ کینیڈین حکومت کی مجبوریوں کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب، کینیڈا کو برآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات پر لگائے گئے سابقہ ٹیرف پہلے ہی وائن، فرنیچر، اور ڈیری مصنوعات جیسے اہم شعبوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق کینیڈا کی معیشت کا ایک بڑا حصہ امریکی مارکیٹ پر منحصر ہے، اور اس تجارتی جنگ کے طویل المدتی اثرات دونوںممالک کے معاشی منظر نامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق فی الحال دونوں ممالک کے وزرا یا سرکاری حکام کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات جاری نہیں ہیں۔ کینیڈین عوام کی اکثریت فی الحال اس معاملے پر وزیراعظم کی پالیسی کی حمایت کر رہی ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر اس تجارتی جنگ کے منفی اثرات عوام تک پہنچے تو عوامی حمایت میں کمی آ سکتی ہے۔ اس نازک صورتحال میں عالمی منڈی اور دونوں ممالک کے سرمایہ کار انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا دونوں حکومتیں مستقبل میں بات چیت کی میز پر واپس آتی ہیں یا نہیں۔