Business
ایران میں دھماکے، تیل مہنگا اور اسٹاک مارکیٹ گر گئی
ایران میں دھماکیوں کی اطلاعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا۔
ایران میں دھماکیوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طویل جنگ کے خطرات نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
بلومبرگ اور دیگر معاشی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین جغرافیائی سیاسی بحران کی وجہ سے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جو پہلے ہی سو ڈالر فی بیرل کی حد کے قریب پہنچنے کے لیے پرعوز ہیں۔
اس صورتحال کا براہ راست اثر وال اسٹریٹ اور دیگر بڑی بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹوں پر پڑا ہے۔ سی این بی سی اور دیگر مالیاتی ذرائع کے مطابق ڈائو جونز اور دیگر اہم انڈیکسز میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے کیونکہ سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ بنانے کے لیے رسک والے اثاثوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مشرق وسطیٰ کا یہ بحران طول پکڑتا ہے تو عالمی معیشت کو افراط زر اور سپلائی چین کے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتیں اور مرکزی بینک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔