World
نو گیارہ کے حملے، پچیس سال بعد بھی متاثرین کا درد اور انصاف کا انتظار
نو گیارہ کے حملوں کو پچیس سال بیت جانے کے باوجود متاثرین کے لواحقین اس المناک سانحے کے صدمے سے باہر نہیں آ سکے ہیں۔ دوسری جانب، اس حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے خلاف مقدمے کا طویل انتظار تاحال جاری ہے۔
تاریخ کے سب سے بڑے اور تباہ کن دہشت گرد حملوں یعنی کہ نو گیارہ (9/11) کے واقعے کو پچیس برس مکمل ہونے والے ہیں، لیکن اس المناک سانحے نے جن زخموں کو جنم دیا تھا وہ آج بھی پوری طرح تازہ ہیں۔ نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے ان حملوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے سیاسی اور سماجی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا تھا، تاہم وہ لوگ جنہوں نے اس سانحے میں اپنے پیاروں کو کھویا، ان کے لیے وقت جیسے وہیں تھم گیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ صدمہ اور غم مستقل طور پر ان کے ذہنوں اور دلوں پر نقش ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ذرا بھی مدہم نہیں ہوا۔ پچیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کے لیے اس سانحے کے اثرات سے باہر نکلنا ناممکن ثابت ہوا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی یادیں اور دکھ دوبارہ تازہ ہو جاتے ہیں۔ اس طویل مدت کے دوران دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور بین الاقوامی سطح پر سلامتی کے امور میں بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں، مگر متاثرہ خاندانوں کی زندگی میں ایک خلا سا پیدا ہو گیا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب، انصاف کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور تاخیر بھی متاثرین کے لیے مسلسل ذہنی اذیت کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ اس حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے خلاف باقاعدہ اور حتمی مقدمے کی کارروائی اور انصاف کا تقاضا اب تک پورا نہیں ہو سکا ہے، اور ٹرائل کے حوالے سے طویل انتظار کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ قانونی اور عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہونے والی اس تاخیر نے متاثرین کے غم کو مزید بڑھا دیا ہے، جو شدت سے اس بات کے منتظر ہیں کہ اس سانحے کے اصل ذمے داروں کو کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ پچیسویں برسی کے قریب آتے ہی ایک بار پھر دنیا بھر میں ان تمام لوگوں کو یاد کیا جا رہا ہے جنہوں نے اس خوفناک دن اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا، جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی یاد میں آج بھی انصاف اور پرامن مستقبل کے لیے سراپا احتجاج اور منتظر ہیں۔