LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب اور سندھ میں اربن فلڈنگ کا الرٹ، ڈیموں میں پانی کی سطح بلند

News Image
ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے پنجاب اور سندھ کے کئی شہروں میں اربن فلڈنگ کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون کے دوران صوبے بھر میں بارشوں کے مختلف حادثات میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ملک کے طول و عرض میں جاری طوفانی مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور دیگر ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر حکام نے پنجاب اور سندھ کے متعدد حصوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ واپڈا اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں ملک کے بڑے آبی ذخائر یعنی تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ کیچمنٹ علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں کا نتیجہ ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح اپنی زیادہ سے زیادہ حد کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ منگلا ڈیم میں بھی پانی کا ذخیرہ بہتر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب گڈو اور سکھر بیراجوں پر دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دریائے چناب میں بھی مارالہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان اور سرگودھا سمیت پنجاب کے کئی بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ سندھ کے اضلاع حیدرآباد، لاڑکانہ، بدین، سکھر، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں بھی شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ محکمہ نے پہاڑی نالوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشات کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور جانی و مالی نقصان کو روکا جا سکے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مون سون سیزن کے دوران بارشوں اور اس سے جڑے مختلف حادثات میں اب تک 45 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 279 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زیادہ تر اموات کچی اور خستہ حال عمارتوں کی چھتیں یا دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث واقع ہوئیں۔ پی ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو حکومت کی پالیسی کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔ انتظامیہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مون سون کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بچوں کو ندی نالوں اور بارانی پانی میں نہانے سے روکیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کریں۔