Education
برطانیہ میں تعلیمی محرومی: ہزاروں طلباء سرکاری ریڈار سے غائب
برطانیہ کے کمشنر برائے بچوں کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہزاروں نوعمر طلباء کالجوں میں داخلہ لینے کے باوجود باقاعدگی سے کلاسز میں حاضر نہیں ہوتے۔ یہ بچے سرکاری اعداد و شمار کی نظروں سے اوجھل ہو کر تعلیمی میدان میں پیچھے رہ رہے ہیں۔
برطانیہ میں بچوں کے کمشنر کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک انتہائی اہم اور چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہزاروں نوعمر طلباء ایسے ہیں جو سرکاری اعداد و شمار اور باقاعدہ نگرانی کے نظام سے باہر رہ کر تعلیم سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے بہت سے طلباء نے تکنیکی طور پر کالجوں میں اپنے داخلے درج کروائے ہوئے ہیں، لیکن وہ عملی طور پر تعلیمی اداروں میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے ملک کے تعلیمی نظام اور متعلقہ حکام کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ یہ بچے بظاہر رجسٹرڈ ہونے کے باوجود زمینی حقائق میں تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس رجحان کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے اور وہ ایک بڑی تعلیمی خلیج کا شکار ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ موجودہ نظام کے تحت جب طلباء کسی کالج یا تعلیمی ادارے میں داخلہ لے لیتے ہیں، تو انہیں سرکاری کھاتوں میں فعال تصور کر لیا جاتا ہے۔ تاہم، ان کی روزانہ کی حاضری اور تعلیمی پیش رفت پر گہری نظر رکھنے کا کوئی موثر طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں طلباء کالجوں کا رخ کیے بغیر ہی تعلیم کے بنیادی دھارے سے کٹ جاتے ہیں اور حکام کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہو پاتا۔ کمشنر برائے بچوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جب تک ان 'اوجھل' رہنے والے طلباء کے لیے سخت مانیٹرنگ اور فالو اپ کا نظام نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک اس سنگین مسئلے پر قابو پانا ناممکن ہوگا۔
تعلیمی ماہرین اور سماجی حلقوں نے اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت سے فوری طور پر پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کالجوں اور تعلیمی اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر طبع کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنائیں اور طویل عرصے تک غیر حاضر رہنے والے طلباء کی فوری طور پر اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ اس کے علاوہ، والدین اور اساتذہ کے درمیان بہتر رابطہ کاری بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ہزاروں بچے نہ صرف تعلیم سے محروم رہیں گے بلکہ معاشرے میں بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور تعلیمی اداروں پر اب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس خاموش تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور عملی لائحہ عمل تیار کریں۔