LIVE
Loading Breaking News...

جوانی میں وصیت نامہ لکھنا کیوں ضروری ہے؟ ایک نوجوان کی کہانی

News Image
زیادہ تر نوجوانوں کا خیال ہوتا ہے کہ وصیت نامہ بنانا بڑھاپے کا کام ہے اور جوانی میں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم، ایک ستائیس سالہ نوجوان نے کم عمری میں ہی اپنی وصیت لکھ کر اس سوچ کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وصیت نامہ یا 'ول' صرف زیادہ عمر کے افراد یا سنگین بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے ہی ضروری ہوتا ہے۔ معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ جوانی کے ایام میں موت یا قانونی دستاویزات کے بارے میں سوچنا وقت کا ضیاع ہے اور اس کی کوئی فوری ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر نوجوان اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں مالی یا جائیداد کی تقسیم سے متعلق کسی بھی قسم کی کاغذی کارروائی کو التواء کا شکار رکھتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ایک ستائیس سالہ نوجوان نے کم عمر میں ہی اپنی وصیت لکھ کر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس عمل میں تاخیر کیوں خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس نوجوان کا ماننا ہے کہ زندگی غیر یقینی ہے اور کسی بھی حادثے یا ناگہانی صورتحال میں خاندان کو مالی اور قانونی مشکلات سے بچانے کے لیے پہلے سے تیاری کرنا عقلمندی ہے۔ جب کوئی شخص کم عمری میں ہی اپنی جائیداد اور اثاثوں سے متعلق واضح ہدایات چھوڑ جاتا ہے، تو اس کے پسماندگان کو بعد میں عدالتوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑتے اور تنازعات کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ وصیت صرف دولت مندوں یا بزرگوں کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہر اس بالغ شخص کو اس بارے میں سنجیدہ ہونا چاہیے جو اپنے اثاثوں کا ذمہ دار ہے۔ کم عمر میں وصیت لکھنے سے انسان اپنے مستقبل کے تئیں زیادہ باشعور ہوجاتا ہے اور وہ اپنی مالی ترجیحات کو بہتر طریقے سے طے کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف خاندانی رشتوں میں تناؤ سے بچا جا سکتا ہے بلکہ قانونی پیچیدگیوں کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ لہذا، جوانی کے پر آشوب دور میں بھی مستقبل کی منصوبہ بندی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور وقت پر مناسب فیصلے کرنے چاہئیں۔