World
نیویارک میں 9/11 کے بعد زہریلی ہوا کے ریکارڈز جاری
نیویارک کے میئر نے نائن الیون کے حملوں کے بعد فضائی آلودگی کے ریکارڈز جاری کر دیے ہیں۔ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں کے صحت پر اثرات کے بارے میں متاثرین سے جھوٹ بولا گیا تھا۔
نیویارک کے میئر نے گیارہ ستمبر کے تاریخی اور ہولناک حملوں کے بعد شہر کی فضا میں پھیلنے والی زہریلی ہوا سے متعلق اہم اور خفیہ ریکارڈز باضابطہ طور پر عوام کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔ ان دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک بار پھر ماضی کے زخم ہرے ہو گئے ہیں اور حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ میئر کی جانب سے جاری کردہ اس ریکارڈ سے یہ واضح طور پر عیاں ہوتا ہے کہ سانحہ نائن الیون کے بعد متاثرین اور عام شہریوں کو اس زہریلی ہوا کے طویل المدتی اور خطرناک صحت پر اثرات کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا گیا اور ان سے حقائق چھپائے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حملوں کے فوراً بعد جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرنے سے زہریلا دھواں اور راکھ فضا میں پھیلی تھی، تو اس وقت کے ذمہ داران نے صورتحال کو کم سنگین قرار دیا تھا۔ تاہم، اب سامنے آنے والے ان ریکارڈز نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ دستاویزات کے مطابق حکام کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ فضا میں موجود ذرات انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں، اس کے باوجود متاثرین اور ریسکیو اہلکاروں کو اس خطرے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا اور مبینہ طور پر انہیں دھوکے میں رکھا گیا۔
اس پیشرفت کے بعد نیویارک کے حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں کی طرف سے ایک بار پھر انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت اگر بر وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتیں اور سچائی کو سامنے لایا جاتا تو بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ اب جب کہ یہ ریکارڈز عوام کی دسترس میں ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ متاثرین کو ان کا حق دلانے اور ذمہ داران کا کٹھ پتلی کردار بے نقاب کرنے کے لیے نئے قانونی اور سیاسی اقدامات کیے جائیں گے۔