World
اقوام متحدہ کی جانب سے افریقہ کے نقشے میں بڑی تبدیلی
اقوام متحدہ نے افریقہ کے سائز سے متعلق 450 سال پرانے نقشے کے غلط تصور کو درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تاریخی تبدیلی سے عالمی سطح پر جغرافیائی حقائق کو نئے انداز میں دیکھا جائے گا۔
دنیا بھر میں گزشتہ چار سو پچاس سالوں سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا جغرافیائی نقشہ حقیقت میں ایک بہت بڑے فریب پر مبنی تھا، جس نے افریقہ جیسے عظیم براعظم کے حقیقی سائز کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا۔ صدیوں پرانا یہ روایتی نقشہ جسے مرکیٹر پروجیکشن کہا جاتا ہے، زمین کی گولائی کو ایک چمٹے ہوئے کاغذ پر دکھاتے ہوئے خط استواء سے دور واقع خطوں کو غیر معمولی طور پر بڑا اور استواء کے قریب واقع علاقوں بالخصوص افریقہ کو سکیڑ کر دکھاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نقشے پر افریقہ کا براعظم جتنا نظر آتا ہے، حقیقت میں وہ اس کے حجم سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ اس طویل عرصے سے چلی آنے والی مسخ شدہ جغرافیائی تصویر کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں افریقہ اور دیگر خطوں کے رقبے کے بارے میں ایک غلط تصور پختہ ہو چکا تھا۔ اب اقوام متحدہ نے اس تاریخی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اور عالمی نقشے میں درستی لانے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے تاکہ دنیا بھر میں تعلیمی اداروں اور اداروں کے اندر جغرافیائی حقائق کو درست تناظر میں پیش کیا جا سکے۔ اس تبدیلی کا مقصد نہ صرف زمینی حقائق کو درست کرنا ہے بلکہ عالمی نقشہ سازی میں انصاف اور توازن کو فروغ دینا بھی ہے، کیونکہ پرانے نقشوں کی وجہ سے افریقہ کا سیاسی اور جغرافیائی قد کمتر محسوس ہوتا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد دنیا بھر میں بچوں کو پڑھائے جانے والے جغرافیہ کے نصاب پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کے دور رس نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے، جو دنیا کو دیکھنے کے ہمارے روایتی زاویے کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دے گا۔