LIVE
Loading Breaking News...

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نئی قیمتوں کا اعلان

News Image
وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں بارہ روپے نوے پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے بہتر پیسے فی لٹر اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق منگل کے روز سے کر دیا گیا ہے جس کے بعد پٹرول تین سو اٹھاون روپے ستাত্তر پیسے فی لٹر فروخت ہو رہا ہے۔
حکومت نے پیر کے روز ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ پیٹرول کی فی لٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اس ردوبدل کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 381 روپے 77 پیسے فی لٹر میں فروخت ہوگا۔ اس وقت بھی حکومت کی جانب سے پیٹرول پر فی لٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے کے قریب ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کی جا رہی ہیں، جو اس کی حتمی قیمت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نئی قیمتیں منگل کے روز سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اپریل کے اوائل میں بین الاقوامی مارکیٹ اور خطے میں کشیدگی کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جن میں بعد ازاں کچھ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کے نرخوں میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا सके۔ حکومت کی جانب سے پہلے ہی اوگرا کو یہ اختیار دیا جا चुका ہے کہ وہ عالمی منڈی کے رجحانات کی روشنی میں روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کا تعین کرے، جس کا مقصد قیمتوں کے جھٹکوں کو بتدریج منتقل کرنا ہے۔ پیٹرول عام طور پر نجی گاڑیوں، چھوٹی سواریوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ہونے والا ردوبدل بھی مجموعی طور پر عوام کے لیے گراں بار ثابت ہوتا ہے کیونکہ ڈیزل کو ہیوی ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں، زرعی ٹیوب ویلز اور پاور پلانٹس میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی ٹیکس وصولی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں جن کی ماہانہ فروخت لاکھوں ٹن تک پہنچتی ہے، اور ان کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی لہر ایک بار پھر دیگر اشیائے ضروریہ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔