LIVE
Loading Breaking News...

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد، پولیس تحقیقات شروع

News Image
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین پروفیسر عارف ساقی کو ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے محافظوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے دوران مبینہ طور پر ہوٹل کے مالک کے افراد کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین پروفیسر عارف ساقی کو مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد تعلیمی حلقوں اور شہریوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پروفیسر عارف ساقی کو ایک ہوٹل کے مالک کے بیٹے اور اس کے مسلح محافظوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ستمبر 2026 کے اوائل میں پیش آیا جس نے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔متاثرہ پروفیسر عارف ساقی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی گاڑی کو ایک ڈبل کیبن گاڑی نے مبینہ طور پر ٹکر ماری جو کہ ایک آن لائن ٹیکسی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا تسلسل تھی۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ہوٹل کے مالک کے ساتھیوں اور محافظوں نے نہ صرف پروفیسر پر ہاتھ اٹھایا بلکہ مبینہ طور پر دو ہوائی فائرنگ بھی کی گئیں۔ اس حملے کے نتیجے میں پروفیسر کو جسمانی چوٹیں آئیں اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئیں جن میں انہیں تشدد کے بعد دیکھا جا سکتا ہے۔اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اساتذہ کی تنظیموں نے اس بزدلانہ حرکت کی شدید مذمت کی ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی شخصیات پر اس قسم کے حملے معاشرے میں قانون کی عملداری اور امن و امان کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔