LIVE
Loading Breaking News...

سعودی تنصیبات پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

News Image
سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر حوثی باغیوں کے حملے کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ پچھلے چھ ہفتوں کے دوران تیل کی بلند ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ پچھلے چھ ہفتوں کے دوران اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات پر حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے دنیا بھر میں توانائی کی رس رسد کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی اس تازہ کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ سعودی عرب عالمی منڈی میں تیل کا ایک بہت بڑا برآمد کنندہ ہے۔ جب بھی اس خطے میں تنصیبات پر حملے ہوتے ہیں، تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، جس سے براہ راست قیمتوں پر اوپر کی جانب دباؤ پڑتا ہے۔ حالیہ واقعے کے بعد مختلف تجارتی منڈیوں میں تیل کے نرخوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی نہ آئی اور تیل کی تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے دنوں میں عالمی معیشت پر اس کے مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ توانائی کے بحران سے بچنے کے لیے ہنگامی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔ دریں اثنا، سرمایہ کار اور کاروباری حلقے بھی مشرق وسطیٰ کی عسکری اور سیاسی صورتحال میں ہونے والی ہر نئی پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔