LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت اور دفاعی معاہدے پر بیان

News Image
پاکستان نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حوثی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی سلامتی اور territorial integrity خطے کے امن کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اسی تناظر میں وزیر دفاع اور دیگر اہم رہنماؤں نے مکہ اور سعودی عرب کے دفاع سے متعلق تاریخی دفاعی معاہدوں کی یاد دہانی کرائی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدوں اور عسکری تعاون کے فریم ورک کو فعال کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے اپنے برادر اسلامی ممالک کی سلامتی کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اس نازک وقت میں بھی سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کچھ ویڈیوز کے حوالے سے حقائق کی جانچ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ مخصوص بیانات کو تناظر سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ کلپس کے ذریعے غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، ریاستی سطح پر پالیسی بالکل واضح ہے اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو پوری طرح اہمیت دیتا ہے۔ ماہرینِ امورِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حوثی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس بابت بروقت اور دوٹوک مؤقف اپنانا اس عزم کا اعادہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سیاسی سطح پر تعاون غیر متزلزل ہے۔ حکومتِ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو بارآور بنانے کے لیے بھی دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔