LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز ڈرون پر قبضہ

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی آبدوز ڈرون کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں اور حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
تہران: ایران کی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک پانیوں میں کارروائی کرتے ہوئے ایک امریکی بحریہ کے آبدوز ڈرون کو اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کے بعد خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کی کیفیت میں مزید شدت آ گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر کشیدگی عروج پر ہے اور خلیجی خطے میں سکیورٹی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس واقعے کے بعد خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مبینہ طور پر لاحق خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب اس سمندری واقعے اور حالیہ جھڑپوں کے تناظر میں ایرانی حکام نے امریکی کارروائیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید حملے کیے گئے تو تہران کی طرف سے کہیں زیادہ تیز، بھاری اور دردناک جواب دیا جائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات خلیجی آبی گزرگاہوں میں تجارتی اور عسکری سرگرمیوں کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتے ہیں، بالخصوص آبنائے ہرمز جو دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے فوری اثرات عالمی معیشت اور مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اس تازہ ترین جغرافیائی سیاسی بحران اور اطلاعات کے بعد کہ ایران نے مبینہ طور پر امریکی بحریہ کے بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں، بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھنے کے خدشات کو تقویت ملی ہے۔ عالمی رہنماؤں اور اقتصادی ماہرین کی جانب سے صورتحال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے، تاہم زمینی حقائق کے پیش نظر خطے میں فی الحال غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔